Saudade
This piece includes references to suicide that some readers may find distressing. We had spent a long time getting ready…
The online magazine of new writing from around the globe
10 June 2021
توکن رنگوں کی دہشت سے
اپنے فحش سوالوں کے ناخون بڑھاتی رہتی ہے
خوابوں کی دھندلی لذت میں
اپنی کچی مسیں بھگوتے لڑکوں کی
نیند اُدھیڑتی رہتی ہے
تیرے پرس کے آئینے میں
تیری خفیہ شکل چھپی ہے
امرودوں سی چھاتیاں جن پر
ململ کی باریک سی مدھم دھوپ بچھی ہے
جیبوں میں جنگلی دیو مالا
اور چہرے پر چڑھتے تند دھوئیں کا ہالہ
تیری شطرنجی آنکھوں میں
کیسے نقشے کھنچے ہوئے ہیں
کس غیبی بوسے کی خاطر
تیرے لب یوں کھلے ہوئے ہیں
آ میں تجھ کو
خواہش کے عریاں موسم میں
رنگ لگاوں
بانہوں کے اِیزل پر تیرا چہرہ رکھ کر
ہونٹ سے تیری شکل بناؤں
ایسے بھی کچھ دن ہوتے ہیں
جن کی جیب میں نہ اخبار نہ گھڑیوں کے بیکار الارم
چڑھتے اور اترتے بھاؤ، کچھ نہیں ہوگا
ان کے منہ میں افواہوں کی جھاگ نہ ان کے چہروں پر
کسی ڈراؤنی سازش کی دہشت ہوتی ہے
بھولے بھالے سے معصوم یہ دن
ایسے دنوں میں لاؤڈ سپیکر
شہر سے ہجرت کر جاتے ہیں
بازاروں میں ساری دکانیں یکدم غائب ہو جاتی ہیں
جلسے اور جلوس کی رسمیں مٹ جاتی ہیں
ان کی کھلی ہوئی کھڑکی سے ناں تو
یخ آلود ہوا آتی ہے
اور ناں ان کے دالانوں میں لُو چلتی ہے
ان کا تو بس اپنا ہی موسم ہوتا ہے
گردن میں پھولوں کے مفلر
کانوں میں بل کھاتی مندری
جھومتے ننگ منگے سے دن
یہ دن یہ دن
بے موسم پیڑوں سے تازہ سیب چرا کر
جسموں کے پاتال میں سوئی
اک جنگلی دیو مالا آن جگا دیتے ہیں
جانے کیسے دروازوں سے
ازلوں کی سرگوشی بن کر چھا جاتے ہیں
Illustration by Isma Hasan
This piece includes references to suicide that some readers may find distressing. We had spent a long time getting ready…
Singh sat on the bench on Platform Three at Amritsar Junction. Nine years of waiting had carved his outline into…
Translated to English by Arunava Sinha and Shabnam Nadiya 1. The first time Mafiz ran along Kendua’s main road, it didn’t catch the eye…
Sign up to receive new pieces of writing as soon as they are published as well as information on competitions, creative grants and more.